ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چکبالاپور میں سرکاری میڈیکل کالج واسپتال کے تعمیری کام کا آغاز

چکبالاپور میں سرکاری میڈیکل کالج واسپتال کے تعمیری کام کا آغاز

Tue, 28 Jan 2020 13:13:54    S.O. News Service

چکبالاپور،28/جنوری (ایس او نیوز) ضلع کے لئے منظور کی گئی سرکاری میڈیکل کالج و اسپتال کی تعمیری کام کا آغاز آج سے کیا جارہا ہے جس کو اگلے ڈھائی سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔ میڈیکل کالج کے تعمیر ہونے سے دونوں اضلاع سمیت آندھرو دیگر ریاستوں کے غریب وکمزور لوگوں کو بہت سہولت فراہم ہوسکے گی۔ یہ بات چکبالاپور اسمبلی حلقہ کے یم یل اے ڈاکٹرسدھاکر نے آج آرور قریہ کے قریب 525 کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والی سرکاری میڈیکل کالج کے تعمیری کام کا آغاز کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے میں وزیر اعلیٰ بی یس ا یڈی یورپا کا شکریہ گذار ہوں جن کے اہم فیصلہ کی بدولت آج یہ سرکاری میڈیکل کالج کی تعمیر ہونے جارہی ہے۔ ہمارے اس ضلع کو منظور ہوئی میڈیکل کالج کو پچھلی حکومت نے تو کسی دوسرے تعلقہ کے لئے تبدیل کردیا تھا۔ مگرا یڈی یورپا کا ضلع کو ہی میڈیکل کالج دینے کا جو فیصلہ تھا وہ ایک تاریخی فیصلہ تھا جس کی وجہ سے یہ کالج یہاں تعمیر ہونے جارہی ہے۔ اس لئے میں ضلع کے عوام کی جانب سے وزیر اعلیٰ کاشکرگذار ہوں۔ انہوں نے بتایا میرا ایک دیراینہ خواب تھا کہ اس علاقہ میں ایک سرکاری میڈیکل کالج کا قیام ہوسکے اس کے لئے ہی میں نے سیاست میں قدم رکھا تھا۔ یہ میرا خواب آج پورا ہونے جارہا ہے۔ اس علاقہ میں اب تک کئی افراد یم یل اے و یم پی منتخب ہوئے مگر کسی نے بھی سرکاری میڈیکل کالج کے قیام کے بارے میں سوچا تک نہیں۔ مگر میں نے اپنے پہلے الیکشن سے ہی اس علاقے کے عوام کو بھروسہ دلایا تھا کہ ہر حال میں میری یہ کوشش رہے گی کہ یہاں سرکاری میڈیکل کالج کا قیام ہو۔ اس کے پیچھے میں نے دن رات بہت کوشش کی تھی۔ اس میڈیکل کالج کے سلسلہ میں پچھلی حکومت میں میرے ساتھ نا انصافی ہوئی تو میں نے اقتدار کی پرواہ نہ کئے بغیر اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگیا تھا۔استعفیٰ کے 6بعد میں نے کافی مشکلات جھیل نہیں سکتا اس دوران یہاں کے عوام نے جو میرا ساتھ دیا اس سے بھلایا بھی نہیں جاسکتا۔ سدھاکر نے کہا کہ یہاں میڈیکل کالج اور ایک ہزار بستروں والے اسپتال کے قیام سے اس علاقہ سمیت دونوں اضلاع اور پڑوسی ریاستوں کے غریب و کمزور بیماروں کو بہت آسانی ہو گی۔ کیونکہ یہاں کے غریب مریضوں کو بنگلور کی اسپتالوں کو لے جانا ہی دشوار بن گیا ہے۔ اس میڈیکل کالج واسپتال کے بعد ہر ڈپارئمنٹ میں 30تا40 ڈاکٹرس موجو د ر ہیں گے۔ جس سے ہر ایک مریض کو بہت آسانی ہوگی۔ سدھاکر نے کہا کہ میں ایک طرف صحت اور ایک طرف تعلیمی شعبہ کو اہمیت دیتے ہوئے کام کرتا چلا آرہا ہوں۔ اس لئے یہ دونوں انسان کی دو آنکھوں کے مانند ہیں۔ اگر یہ اچھی صحت اور اچھی تعلیم ہر ایک انسان کو مل گئی تو وہ ہر مقام اور ہر لحاظ سے کامیاب ہوجائے گا۔سدھاکر نے کہا کہ اس علاقہ میں زیر زمین آبی سطح بڑھانے کے لئے پانی کا فراہم کرنا بھی اہم ہے۔ یہاں اچھی صحت اور اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر پانی بھی اچھی طرح سے مل جاتا ہے تو یہاں کے کسانوں کو بھی بہت مدد مل سکتی ہے۔ اس لئے ہیچ ین ویلی کا پانی پاکی و صفائی کے بعد تالابوں کو بھرتی کرنے کا جو پراجکٹ تیار کیا گیا تھا اس یوجنا کے تحت اگلے دس دنوں میں یہ پانی شہر کے کندوار کے تالاب کو پہنچ جائے گا۔ اور پھر دس دنوں میں یہ تالاب بھر کر دوسرے تالاب کو پہنچ جائے گا۔ اور ماہ فروری کے 21 اور22 کو عوامی جاترا کا انعقاد بھی اس کندوار کے تالاب کے قریب کیا جارہا ہے جس میں ضلع بھر سے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے شرکت کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔ سدھاکر نے کہا کہ یتناہولے پراجکٹ کو بھی مکمل کرنے کے لئے رقم کی منظور ی کے سلسلہ میں وزیرا علیٰ سے بات چیت کئی گئی ہے امید ہے وزیر اعلیٰ اپنے اگلے بجٹ میں اس یوجنا کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم مختص کریں گے۔ ضلع پنچایت صدر چکا نرسمہایا نے کہاکہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ یم یل اے سدھاکر کی کوشش کی بدولت اس ضلع میں سرکاری میڈیکل کالج و اسپتال تعمیر ہونے جارہی ہیں۔ اس سے یہاں کے لوگوں کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر ضلع پنچایت نائب صدر نرملا منی راجو۔ ڈپٹی کمشنر آر لتا۔ اسسٹنٹ کمشنر رگھونندن۔ سابق ضلع پنچایت صدر پی ین کیشوا ریڈی۔ تعلق پنچایت صدر راما سوامی کے علاوہ دیگر بھی موجود رہے۔


Share: